تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھا
Poet: Kafeel By: zeeshan, Lahoreتنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھا
آنکھوں میں سو رہا تھا اندھیرا تھکا ہوا
سینے میں جیسے تیر سا پیوست ہو گیا
تھا کتنا دل خراش اداسی کا قہقہہ
یوں بھی ہوا کہ شہر کی سڑکوں پہ بارہا
ہر شخص سے میں اپنا پتہ پوچھتا پھرا
برسوں سے چل رہا ہے کوئی میرے ساتھ ساتھ
ہے کون شخص اس سے میں اک بار پوچھتا
دل میں اتر کے بجھ گئی یادوں کی چاندنی
آنکھوں میں انتظار کا سورج پگھل گیا
چھوڑی ہے ان کی چاہ تو اب لگ رہا ہے یوں
جیسے میں اتنے روز اندھیروں میں قید تھا
میں نے ذرا سی بات کہی تھی مذاق میں
تم نے ذرا سی بات کو اتنا بڑھا لیا
کمرے میں پھیلتا رہا سگریٹ کا دھواں
میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا
آزرؔ یہ کس کی سمت بڑھے جا رہے ہیں لوگ
اس شہر میں تو میرے سوا کوئی بھی نہ تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






