تو نے تو اے رفیق جاں ، اور ہی گل کھلا دئیے
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتو نے تو اے رفیق جاں ، اور ہی گل کھلا دئیے
بخیہ گری کے شوق میں زخم نئے لگا دئیے
دست ہوا نے ریت پر پہلے بنائے راستے
پھر مرے گھر کے راستے ، گھر سے ترے ملا دئیے
کتنی تھی اجنبی فضا ، پہلے پہل فراق میں
درد کے اشتراک نے دوست کئی بنا دئیے
آمد یار کی خبر سن کے ہم اہلِ شوق نے
پلکوں سے گرد صاف کی رستے میں دل بچھا دئیے
پوچھا تھا کیا پسند ہے تم کو مری بیاض میں
اس نے جدائیوں کے شعر چن کے مجھے سنا دئیے
آخری سنگ میل تک سانس اکھڑی چلی مگر
پیش خیال تھا کوئی ، ہم نے قدم بڑھا دئیے
ایک ستم ظریف نے صبح طرب کے نام پر
اپنا دیا بچا لیا سب کے دئیے بجھا دئیے
کتنا سخن شناس تھا طعنہ دیا تو یوں دیا
آپ کے فن کے رت جگے ہجر نے جگمگا دئیے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






