تو نے كيسے پتھر بننا سيكھ ليا ھے
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreچھپ چھپ كر پتھروں سے باتيں كرنے والی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے درد كو سہنا سيكھ ليا ھے
پتھروں كے سينے دكھ سے بھر كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے پتھر بننا سيكھ ليا ھے
آنسو پی كر پتھروں كو رلا كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے روگ ميں جينا سيكھ ليا ھے
تپتے صحراؤں كو گلشن دے كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ريت پر چلنا سيكھ ليا ھے
سب كو تجديد-تعلق كا سبق سكھا كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے زخموں كو بھرنا سيكھ ليا ھے
دكھ ميں جو تيرے ساتھ نہ تھيں مورتيں
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ان كی پرستش كرنا سيكھ ليا ھے
دكھوں ميں جلتی ہر پل مرتی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ضبط ميں جينا سيكھ ليا ھے
شور مچاتی سمندر كی موجوں ميں
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے سسكيوں كو دبانا سيكھ ليا ھے
بارش ميں بھيگتی آنسوؤں كو چھپاتی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے كرب ميں جينا سيكھ ليا ھے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






