تو ہی واحد تو ہی ابدی تو ہی واجب الوجود

Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston

تو ہی واحد تو ہی ابدی تو ہی واجب الوجود
تو ہی دائمی تو ہی تجلی عرش بریں میں

تو ہی اول تو ہی آخر تو ہی ظاہر تو ہی باطن
رکوع وسجود میں تہجد کے سرور میں

اِدراک کے اشاروں میں کشف کے نطاروں میں
تو ہی قلبِ مومن میں تو ہی ایمان حق الیقیں میں

Rate it:
Views: 685
03 May, 2021