تیری ایک ایک بات اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
Poet: M Masood By: M Masood, Nottinghamتیری ایک ایک بات اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
تیرے ہونٹوں سے نکلا ہر لفظ یاد ہے مجھے آج تک
تو نہ تھا تو تھے ہم بچپن کی ہر ایک خوشی میں
تیرے سنگ ملے جو غم ہر غم یاد ہے مجھے آج تک
تیرے ساتھ چلے تھے زندگی کے کچھ دن جب ہم
اور کیسے جدا ہوۓ راستے یاد ہے مجھے آج تک
تیرا وہ چلنا کبھی ہنس کے کبھی غُصے میں گزرنا
تیری وہ ایک ایک ادا اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
کیا دن تھے تیری طرف دیکھتے پرواہ نہ تھی کسی کی
اور وہ بے پرواہی کا عالم اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
تیری آمد کی خبر پر خوشی سے جھُومنا اور چلانا
وہ بے خودی کا عالم اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
تیرے سامنے آتے ہی مجھے میں ہر بات بھول جاتا ہوں
بے خودی میں تجھے دیکھنے کا عالم یاد ہے مجھے آج تک
تیرے آنے کی دعائیں کرنے تجھے مانگنا ہے دعاوُں میں
اپنے ملن کیلۓ ہاتھوں کا اُٹھنا یاد ہے مجھے آج تک
جدائی تو لکھی تھی ہاتھوں کی لکیروں پر مسعود
آخری دن تیرا یوں دیکھنا اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






