تیری خاطر انا کو اپنی میں موڑ گیا میرے کوزہ گر
Poet: سید حمائل حسین زیدی By: Syed Hamail Hussain Zaidi, Gujranwalaتیری خاطر انا کو اپنی میں موڑ گیا میرے کوزہ گر
تیری خاطر حدوں کو اپنی میں توڑ گیا میرے کوزہ گر
دار پہ سب لٹک رہے ہیں ، ہے اپنی باری بھی آنے والی
کوئی آشنا نہیں مل رہا ، کہاں چھوڑ گیا میرے کوزہ گر
تاریکیاں ہیں راہ دکھاتی ، ہیں اجالے سر چھپائے
کس راہ پہ ہوں گامزن، کہاں چل دیا میرے کوزہ گر
عجب دو راہے پہ کھڑا ہوں میں ، تیری زندگی کی بقا ہوں میں
سمجھا نہ تو اس رمز کو ، اور چھوڑ گیا میرے کوزہ گر
علم ہے ہاتھوں میں نفرتوں کا، پرچار کرتا ہوں چاہتوں کا
پڑی ہے دنیا پیچھے میرے ، اب کروں تو کیا میرے کوزہ گر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






