تیری دنیا سے جانا چاہتا ہوں
Poet: عتیق مہدی By: عتیق مہدی, Bhakkarتیری دنیا سے جانا چاہتا ہوں
تلخ ماضی بھلانا چاہتا ہوں
تیری یادیں ہی میرا سب کچھ ہے
اپنا سب کچھ لٹانا چاہتا ہوں
تیرے در کی حسین چوکھٹ پر
سانسیں اپنی لٹانا چاہتا ہوں
دل سے بیتے دنوں کی یادوں کو
ایک پل میں مٹانا چاہتا ہوں
چند لمحے عطا کریں مجھ کو
حال دل کا سنانا چاہتا ہوں
اپنا کاندھا ادھار دیں مجھ کو
چند آنسو بہانا چاہتا ہوں
تم کو قلب و جگر کی مسند پر
عمر ساری بٹھانا چاہتا ہوں
کتنا پاگل ہوں، کیسے ممکن ہے
آپ کو بھول جانا چاہتا ہوں
وہ جو وجہِ حیات ہیں میری
آپ کے خط، جلانا چاہتا ہوں
دل اگر چاہے تو منا لینا
آج میں روٹھ جانا چاہتا ہوں
تیرے نازک نفیس قدموں سے
اپنا آنگن سجانا چاہتا ہوں
اپنا سر رکھ کے تیرے قدموں میں
جان اپنی گنوانا چاہتا ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






