تیری یادوں سے مرے اشک بھی باتیں کر لیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلادور رہ کر بھی ترے دل کا پتا لیتی ہوں
تیری تصویر نگاہوں میں بسا لیتی ہوں
جب بھی اتری ہوں کبھی جھیل سی آنکھوں میں تری
ہیرے جتنے ہیں محبت کے چرا لیتی ہوں
تیری یادوں سے مرے اشک بھی باتیں کر لیں
دل کی دیوار پہ شیشہ میں لگا لیتی ہوں
غم دنیا میں تری یاد کو شامل کر کے
خشک صحرا میں سمندر بھی بہا لیتی ہوں
تم بھی اک بار نگاہوں سے سلامی کر لو
دستِ الفت میں اگر کہہ دو بڑھا لیتی ہوں
بانٹ کر پیار ،زمانے کو محبت دے کر
سارے عالم سے یقیں مانو دعا لیتی ہوں
ان میں خوشبو ہے ترے پیار کی وشمہ اب تک
سوکھے پھولوں کو میں ہونٹوں سے لگا لیتی ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






