تیری یاد دل کو خوب آئی ہو جیسے
Poet: لائبہ قیوم By: Laiba qayyum, Gujranwala زندگی کی حقیقت پلٹ آئی ہو جیسے
اک اندھیری رات بھٹک آئی ہو جیسے
گمراہ راستوں پر گمراہ چاہتوں کی
اک مدھم سی جھلک سمٹ آئی ہو جیسے
درد آ س لگائے بیٹھا ہے دل میں سما جانے کی
کوئ گمنام ہوا اسے کھینچ لائی ہو جیسے
نمی بسی ہے نگاہوں میں یوں شبنم کی طرح
قافلوں پر کسی سیلاب کی رونمائی ہو جیسے
خیمے بھی یکسر ہیں خیاباں بھی یکسر
فضا میں کوئ دھند نما شے سمائی ہوجیسے
منزلیں راہ میں خود ہی الجھ گئی آخر
نا مرادگی ہی میری رسائی ہو جیسے
شام ڈھلتی ہے تیرے آ نچل میں یوں بے سبب
تاریکی سے تیری خوب آ شنائی ہو جیسے
فلک سجدے میں پڑا رہا صدیوں نادم
مدتوں بعد اسے بندگی یاد آئی ہو جیسے
تیری عدالت ظلم میں اے دلِ عادل
زندگی محض موت کی ہرجائی ہو جیسے
پتھر بن بیٹھا ہے یہ شہرِ دل
ہر دل سے ہی دل کی لڑائی ہو جیسے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






