تیرے جنوں کے سامنے یہ زمانہ کیا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreتیرے جنوں کے سامنے یہ زمانہ کیا ہے
جو تجھ سے نہ کہا گیا وہ فسانہ کیا ہے
خودی اور بیخودی کے درمیان الجھا رہتا ہے
جو لفظوں میں نہیں ڈھل پایا وہ افسانہ کیا ہے
ارے جو بار بار تیری گلی سے گزرتا ہے
ذرا پوچھو تو سہی کہ وہ دیوانہ کیا ہے
دشت الفت میں بھٹکتا رہا جو ساری عمر
وہ جو ناداں ہے تو بتلاؤ فرزانہ کیا ہے
نگاہوں سے چھلکتا ہے لبوں تک آ نہیں پاتا
جو یہ نہیں تو بھلا اور پیمانہ کیا ہے
ہماری دوستی پہ آج تمہیں کیوں شبہ ہوا
اگر شبنم سہیلی ہے تو رخسانہ کیا ہے
ایک ٹوٹا ہوا تارا جو میں نے کل شب دیکھا تھا
کسی کو علم ہے کہ اس کا ٹھکانہ کیا ہے
یہی اک بات میرا دل مجھے سمجھاتا رہتا ہے
جو روٹھا ہی نہیں پھر اس کو منانا کیا ہے
مجھے معلوم ہے عظمٰی بہت انمول ہوتے ہیں
ذرا سی پات پہ اشکوں کا بہانا کیا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






