تیرے دیے ہوئے زخموں کا حساب
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, gujratہم ہر روز تیرے دیے ہوئےزخموں کا حساب لکھتے ہیں
تیرے اک اک لفظ پے ہم پورا پورا نصاب لکھتے ہیں
کبھی شعر کبھی غزل لکھتے ہیں پھر کچھ حرف راہ جاتے ہیں
دِل میں خیال آتا ہے کیوں نہ تُجھ پہ کوئی نفیس کتاب لکھتے ہیں
کبھی لِکھنےہی لگتا ہوں جنجھوڑ دیتا ہے کوئی شخص پکڑکر گیرے بان میرا
کچھ خیال کرو کیا رشتہ ہےتمارامُجھ سےجومُجھ پہ باتیں بےحساب لکھتےہیں
اکژ کہہ دیتا ہوں نہ تُجھ پہ لکھتے ہیں غزل نہ تیرے خالات پہ لکھتے ہیں
ہم تو بَس تنہائی کے عالم میں خود پہ گزرےوقت کا عذاب لکھتے ہیں
ہاں مَگر یہ بات بھی سَچ ہے تُجھ سے میری زندگی کا کچھ حصہ جُھڑا ہے
کرکہ سوال خود سےاُسےبھی ہے محبت کہ نہیں پِھر خودہی اُس کا جواب لکھتے ہیں
پڑھ کر میری شعایری کبھی،خَبرنہیں تیرے مُنوں سےخرف نکلیں یاآنکھ سے آنسوں
جِس نے بھی پڑھیں مِیری غزلیں وہ روپڑاہم اِس قدرزندگی،مجسف،بےنقاب لکھتے ہیں
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






