تیرے شہرسے گزریں تو نگاہ جھکا کر چلتے ہیں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadتیرے شہر سے گزریں تو نگاہ جھکا کر چلتے ہیں
تیرا نام اپنے نام سے ہم ملا کر چلتے ہیں
تیری طرح تیرے شہر کے لوگ عجیب ہیں
نرم و نازک ہاتھوں میں بھی پتھر اٹھا کر چلتے ہیں
ہم سے نہ پھر کہنا کیوں آجاتے ہو مرنے کو تم
تیرے شہر کے بھی لوگ تو دل دُکھا کر چلتے ہیں
اب تو نہیں ہے وہ وقت، جب روتے تھے کر کہ یاد
اب تو یادِ ماضی کی ہم، مرہم بنا کر چلتے ہیں
جب بھی گزرتے ہیں نیا اپنا انداز ہوتا ہیں
نئے اب زخم لے کر ہم پرانے چھپا کر چلتے ہیں
تیری نسبت کا ہم اتنا احترام کرتے ہیں
کہ خاک شہر کی ہم آنکھوں سے لگا کر چلتے ہیں
ساجد ہمارے بعد، ہم پہ الزام نہ آ جائے
اس لیے ہم خالی ہاتھ سب کو دیکھا کر چلتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






