تیرے چہرے پر اداسی میرا دل دکھاتی ہے
Poet: Roshani By: Roshani, U.A.Eکیسے اسے پیار دوں
میں خود گہری شام کا اندھیرا ہوں
کہتا ہے میرے ساتھ ساتھ چلو
میں خود صحرا کے جیسا پیاسا ہوں
کہتا ہے میرے سوالوں کا جواب دو
میں خود کیں سوالوں کا سناٹا ہوں
کہتا ہے میں نامکمل ہوں مجھے مکمل کردو
میں خود کیں حصوں میں بٹا ہوں
کہتا ہے مجھے زندگی کے سارے رنگ دو
کیسے بتاؤں میں خود بےرنگ دریا ہوں
کہتا ہے مجھے سائباں دو
میں خود بےگھر پرندہ ہوں
میں تجھے اپنانا چاہتا ہوں مگر
میں خود زمانے میں رسواہ ہوں
تیرے چہرے پر اداسی میرا دل دکھاتی ہے
کیسے کہوں میں جان بہت شرمندہ ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







