تیرے گھر کے راستے میں اپنا مزار دیکھا
Poet: SUNDER KHAN By: SUNDER KHAN, KSAتھا بے بسی کا عالم تجھے بے شمار دیکھا
تیرے گھر کے راستے میں یوں اپنا مزار دیکھا
پھر کیوں کریں گلہ ھم تجھ سے ہی بے رخی کا
محبت میں چوٹ کھائی تو یہ کاروبار دیکھا
میں رات کی سیاھی چہرے پہ بانٹ لونگا
اپنے ہی عکس میں پھر تجھے بار بار دیکھا
دروازے پہ تیرے ھم نے خوں کے دئیے جلائے
یوں دل کے ہاتھوں خود کو پھر بے قرار دیکھا
پچھلے پہر سے جاگی آنکھیں سلا سکے نہ
بستر کی ہر شکن میں تیرا انتظار دیکھا
وہ چاند کی روشنی کا کھڑکی سے لوٹ جانا
ھر اک کرن کو ھم نے یوں بے قرار دیکھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






