جب ترے غم گنوائے جائیں گے
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالجب ترے غم گنوائے جائیں گے
خون کے اشک لائے جائے گے
جب لیا جائے گا وفا کا حساب
بے طرح زخم کھائے جائیں گے
جو جنوں میں کیے گئے ویران
کل وہی گھر بسائے جائیں گے
جاں نثاری کا دعوہ ہے جن کا
دشمنوں میں ہی پائے جائیں گے
جانیے کون اسے کرے گا یاد
جب اسے ہم بھلائے جائیں گے
ہو گا جب اس سے سامنا اپنا
لب پہ شکوے سجائے جائیں گے
دن وہی ہو گا جاودانی کا
دار پہ جب چڑھائے جائیں گے
ہو کہ مہجور تیری بانہوں سے
در بدر ہم پھرائے جائیں گے
اب جو ہم ہیں ہماری خلوت کے
کل لبوں سے سنائے جائیں گے
شوق اور زندگی تبہ کر کے
ہجر کے گھر اٹھائے جائیں گے
اُس گلی سے نکال کے ہم کو
ڈھول باجے بجائے جائیں گے
بے سبب بے دلی کے عالم میں
حال اپنے بُجھائے جائیں گے
جھانسے دے کر ہمیں اُمیدوں کے
دامن اپنے چھڑائے جائیں گے
ہم جو ہیں صرف داستانوں کے
منظرِ عام لائے جائیں گے
کوئی معنٰی نہیں وفاؤں کے
بس یونہی دن گنوائے جائیں گے
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






