جب کسی کی محبت کی کہانی سنتی ھوں
Poet: humaira hammad By: humaira hammad, gujranwalaدل مرا بڑا ستاتا ھے
تری یاد دلاتا ھے
جب کسی کی محبت کی کہا نی سنتی ھوں
آنکھیں لھو رو تی ھیں
جاگتی ھیں نہ سوتی ھیں
جب کسی کی محبت کی کہا نی سنتی ھوں
سانس اٹک سی جاتی ھے
سوچ بیٹھ سی جاتی ھے
جب کسی کی محبت کی کہا نی سنتی ھوں
ذھن پہ عکس ترا جم جا تا ھے
ھردردمراتھم جاتاھے
جب کسی کی محبت کی کہا نی سنتی ھوں
سماعتوں میں گونجتی تری باتیں
ختم ھوگئیں مری مسکراھٹیں
جو کہتا تھا مجھ زندگی,ستمگر
اب سانس بھی نھیں لینےدیتاپل بھر
جب کسی کی محبت کی کہا نی سنتی ھوں
اے محبت اپنے ستم ختم کر دے
جھولی مری خوشی سےبھردے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






