جدا تم سے ھوئے ھیں
Poet: .. By: Sumera Ataria, GUDDUجدا تم سے ھوئے ھیں تو کسی سے ھم نھیں ملتے
کوئی ھم سے ملے بھی تو خوشی سے ھم نھیں ملتے
اگر پتھر ھو تم تو آؤ بیٹھو ھم بھی پتھر ھیں
اگر ھو آدمی تو آدمی سے ھم نھیں ملتے
ھم اپنی ذات میں صحرا ھیں اور صحراؤں سے یاری ھے
کسی دریا سمندر یا ندی سے ھم نھیں ملتے
ھمیں مردہ دلی تحفے میں تم نے ھی تو بھیجی تھی
گلا مت کر جو اب زندہ دلی سے ھم نھیں ملتے
ھماری زندگی ھے وہ اگر اس کی خوشی ھے تو
چلو کچھ روز اپنی زندگی سے ھم نھیں ملتے
فقیروں کو فقیروں کی رفاقت راس آتی ھے
سکھی آئیں تو کھہ دینا سکھی سے ھم نھیں ملتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






