جس کو ہم سمجھتے تھے عمر بھر کا رشتہ ہے
Poet: عبداللہ By: عبداللہ, Hyderabadجس کو ہم سمجھتے تھے عمر بھر کا رشتہ ہے
اب وہ رابطہ جیسے رہ گزر کا رشتہ ہے
صبح تک یہ موجیں بھی تھک کے سو ہی جائیں گی
چاند کا سمندر ہے رات بھر کا رشتہ ہے
یہ جو اتنے سارے دل ساتھ ہی دھڑکتے ہیں
کچھ قلم کا ناطہ ہے کچھ ہنر کا رشتہ ہے
تیز ہیں تو کیا غم ہے تند ہیں تو شکوہ کیا
ان ہواؤں سے اپنا بال و پر کا رشتہ ہے
اس حسیں تصور کا میری سرخ آنکھوں سے
آب و گل کا ناطہ ہے بام و در کا رشتہ ہے
ایک ناتواں رشتہ اس سے اب بھی باقی ہے
جس طرح دعاؤں کا اور اثر کا رشتہ ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






