جنوں کی حد سے گزرنا کوئی آسان نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreجنوں کی حد سے گزرنا کوئی آسان نہیں
سنو گے کیسے میری بات جب دھیان نہیں
چلا جاتا ہے سوئے منزل تنہا مسافر
کوئی زاد سفر نہیں کوئی سامان نہیں
نظر آئے بھی تو کیونکر کسی کو روح کی اذیت
بظاہر تو کہیں پہ کوئی بھی نشان نہیں
زبردستی کسی کو کوئی کیوں اپنے سا بنا لے
کسی کو کیا کہ جب فطرت کا ہی میلان نہیں
جبراً ہم کسی کو اپنے رنگ میں کیوں بھلا ڈھالیں
کہ جب دل کی نہیں مرضی کوئی رجحان نہیں
ہواؤں کی زمیں ہو اور بحر کا سر پہ آسماں
کسی کا ہو تو ہو میرا تو یہ ارمان نہیں
ہمارے عہد نے بس مہر بہ لب رکھا ہے
نہ یہ سمجھو کہ اپنے دہن میں زبان نہیں
اس شہر سے دل بھر نہیں پایا کہ ہم جائیں
ابھی جانے کا میرے کوئی بھی امکان نہیں
کہ جس پہ ناز ہو ابھی ایسا نہیں عظمٰی
ابھی کچھ خام ہے پختہ میرا دیوان نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






