جنھیں تالے لگے ماضی کے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanبجھا سا دل لیے اس کارواں کو ڈھونڈتا ہے کیوں
وہ کب کا جا چکا اب راستوں کو دیکھتا ہے کیوں
نہ گزرے گا یہاں سے قافلہ بچھڑا ہوا تیرا
پریشاں حال بیٹھا آج اس کو سوچتا ہے کیوں
چمن سے جو بچھڑ جائے بکھر جاتا ہے وہ غنچہ
بچھڑ کے آشیاں سے آشیاں کو ڈھونڈتا ہے کیوں
پڑے پیروں میں چھالے پھر بھی منزل نہ ملی تجھ کو
نہیں جس کا پتا پھر وہ پہیلی بوجھتا ہے کیوں
وہ بیتے دن یہاں اب یاد بن کے رہ گئے زاہد
جنھیں تالے لگے ماضی کے ان میں جھانکتا ہے کیوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






