جیتی نہیں جہان میں اب تو خوشی سے میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Makati Cityجیتی نہیں جہان میں اب تو خوشی سے میں
مجھ سے ہے روٹھی زندگی اور زندگی سے میں
وہ جس کو میں نے غور سے دیکھا نہیں کبھی
بہتر ہے دور ہی رہوں اس آدمی سے میں
وہ میرے نام سے مری تاریخ بن گئی
گزری ہوں لے کے زندگی جس بھی صدی سے میں
اس زندگی کی سیج پہ کل کا نہیں یقین
فکر و نظر کی بات کروں آج ہی سے میں
کیسے نہ مجھ کو ڈر لگے شیشہ ہے سامنے
آنکھوں کا درد کیسے پڑھوں گی ابھی سے میں
کچھ زندگی کے خواب ہیں ، کچھ آرزو کے رنگ
کچھ روز سے دوچار ہوں اس دل کشی سے میں
رہتا ہے مجھ کو روز قیامت کا سامنا
کیسے چھڑاؤں جان تری عاشقی سے میں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






