جینے کی عمر تھی لیکن مجھے مرنا پڑا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.Aجینے کی عمر تھی لیکن مجھے مرنا پڑا
فیصلہ تو دشوار تھا لیکن مجھے کرنا پڑا
وہ انا پرست - انا سے بھی آگئے
نا چاہیتے ہوئے بھی مجھے جھکانا پڑا
سمندر کی لہروں میں تازگی تھی بہت ac
اپنے درد کو مجھے دل ہی میں رکھنا پڑا
کہا ُاس نے تم آخر مر کیوں نہیں جاتی
اس کی خاطر مجھے موت کے لیے رونا پڑا
سچ تو یہ ہے کہ وہ بھی محبت کرتا ہے لیکن
ہر آزماش سے تنہا مجھے گزارنا پڑا
رات کے آخری پہر میں کیوں یاد آ گیا وہ
جس کے لیے زمانے میں مجھے رسوا ہونا پڑا
بہت اہمیت رکھتا ہے میری زندگی میں شاید
تبھی تو ُاس کی ہر خواہش پر مجھے پورا ُاترنا پڑا
نہیں ہے آج کوئی شکوہ کسی سے بھی مجھے
بس تنہائی میں رو ، رو کر زمانے میں ہسنا پڑا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






