حد نظر سے دور ہے گرد و غبار کارواں
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanحد نظر سے دور ہے گرد و غبار کارواں
منزل پہ کیسے پہچوں میں جو بن میں ہوں یہاں
جو ہمسفر تھے میرے اور آشنا بھی تھے
وہ چھوڑ کر تنہا مجھے خود جا رہے وہاں
راہیں بھی اجنبی میری منزل بھی دور ہے
جاؤں گا اس قفس سے نکل کر میں اب کہاں
اب تو ہے آرزو میری رہبر کوئی ایسا ملے
جو آشنا نگر سے ہو مجھے جانا ہے جہاں
یہ ظلم یہ ستم یہ آہ و فغاں کے قصے
جو رازدان کوئی ملے اس پر کروں بیان
ویران ہے چمن اب اور اڑ چکے ہیں پنچھی
کس آس پہ تو زریں بیٹھا ہے اب یہاں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






