حق بات کیا نکل گئی میری زبان سے
Poet: syed irfan ali zaidi By: syed irfan ali zaidi, faisal abad حق بات کیا نکل گئی میری زبان سے
مجھ سےتمام لوگ ھوئے بد گمان سے
پنہایوں میں اس کی بلندی چھپی ملی
کتنی عظیم ہے یہ زمیں آسمان سے
سائے میں تیرگی میں پجاری کو کیا خبر
پوچھو تمازتوں کا اثر سائبان سے
بچے کبھی نا میری کتابوں سے کھیلتے
گر میں خرید سکتا کھلونے دوکان سے
اپنی زمین چھوڑ کر جانے لگا تھا میں
لڑنے لگیں ھوائیں مگر بادبان سے
مقتل گواھی دیتے ھیں ھر سو زمین پر
اترا کھیں عذاب ھے پھر آسمان سے
اوندھا پڑا ملا ھے چراغوں کا قافلہ
چھوڑا یہ تیر کس نے ھوا کی کمان سے
بے نام پانیوں کی طرف تیرتے ھوئے
ٹکرا گیا ھو ترے بدن کی کمان سے
سڑکوں پہ پھر رھی ھے اجل ڈھوتی ھوئی
زیدی مں پھر نکلنے لگا ھو مکان سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






