حق
Poet: AHMAR HASSAN AHMAR By: Syed Ahmar Hassan Rizvi, karachiتمھارے کچھ نہیں تھے پھر بھی تم پر حق تو رکھتے تھے
بہت روٹھے مگر ملنے کی کوئی شق تو رکھتے تھے
ہزاروں بار ہم نے تم پہ اپنا حق جتایا تھا
بہت بدنام تھیں پھر بھی تمہں اپنا بنایا تھا
مگر یہ کیا کیا تم نے کہ سب کچھ لوٹ کر جانم
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا ڈالا
کہ جییسے بادلوں کے بیچ سب کچھ ہار کر اپنا
چکو ری نے فلک کے چاند کو اپنا بنا ڈالا
نہ اب میں چاند ہوں تیرا نہ تو میری چکوری ہے
بس اتنا جان لے اسِ شبَ ہی میری سینہ زوری ہے
سحر کل کی نہ جانے کتنے ہی دل پھر اجاڑے گی
چکوری چاند پر پہلے کی طرح حق جمالے گی
سہانی زندگی کے خواب کو لے کر کوئی لڑکی
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا لے گی
کہانی یہ یونہی چلتی رہے گی روزِ محشر تک
یہاں تک کہ لحد اک دن ہمیں مہماں بنا لے گی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






