حمد رب ذوالجلال
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City(Punjab-Pakistan)رحمتوں کی بہار تجھ سے ہے
ابر ،باد ،نکھار تجھ سے ہے
عالم یاس ہویا کلفت غم
ہر گھڑی ساز گار تجھ سے ہے
میں اہل جور سے ٹکرا گیا تیرے بل پر
زیست اب یاد گار تجھ سے ہے
تو نے ہر آن دستگیری کی
خود پہ سب انحصار تجھ سے ہے
لالہ و گل میں نور سب تیرا
حسن کا استحضار تجھ سے ہے
ذکر تیر ا سبو سبو دیکھوں
مے کشوں کو قرار تجھ سے ہے
تری حشمت قد ح قدح موجود
زیست کا اعتبار تجھ سے ہے
تیری سطوت ہیسارے عالم پر
منسلک گل عذار تجھ سے ہے
تیرے مغضوب ہوگئے برباد
منعموں کا دبار تجھ سے ہے
حد ادراک تک تیرے انعام
رحمت بے شمار تجھ سے ہے
حوصلہ دے رہا ہے تیرا کرم
فکر انسان کی دھار تجھ سے ہے
طائرون کی زبانپہ تیرا نام
خوش گلو نغمہ زار تجھ سے ہے
پتھروں کو کیا ہے یوں شاداب
سرو جیسا کبار تجھ سے ہے
مشرکوں کی ہزیمتیں ہر جا
معرکہ کار زار تجھ سے ہے
امتحاں لیتا ہے تو بندوں کا
ساری جیت اور ہار تجھ سے ہے
چارہ سازی ازل سے کام تیرا
مطئمن کام دار تجھ سے ہے
تو ازل اور ابد پہ حاوی ہے
عیشوہ صد ہزار تجھ سے ہے
تیری قدرت سمجھ سے بالا
فرد کا اختیار تجھ سے ہے
زیست کے سب قرینے تیری عطا
بدرقہ اوردیار تجھ سے ہے
بندگی سے ملی بقائے دوام
بندگی طرحدار تجھ سے ہے
کون سمجھے تیری مشیت کو
رفتگاں کا قرار تجھ سے ہے
دل کے ٹکڑے سپرد خاک ہوئے
ضبط غم کا شعار تجھ سے ہے
چاند چہرے گہن کی بھینٹ چڑھے
صابرہر برد بار تجھ سے ہے
اس کو بربادیاں ملیں لاریب
ہوگیا جو ستیزہ کار تجھ سے ہے
سب کو وابستہ آب و ناں کی امید
میرے آمرزگار تجھ سے ہے
تیرہ و تار ہو گیا ہے جہاں
راہ طلب آموزگار تجھ سے ہے
تیغوں کے سائے میں اماں کی دعا
مانگتا پہرے دار تجھ سے ہے
تو ہی پہنچے گا یاوری کے لیے
قانع کا انتظار تجھ سے ہے
کہہ رہا ہے شبیر صبح و مسا
نظم لیل و نہار تجھ سے ہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






