حیاتَ گُم گشتہ۔۔۔۔چار
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindiکیا یاد تجھے بھی آتے ہیں
اک لڑکی تھی اک لڑکا تھا
لڑکا جب تعلیم کا اپنی سال مکمل کرتا تھا
اور ترقی کر کے وُہ تعلیم کا زینہ چڑھتا تھا
خوش خبری وُہ سب سے پہلے لڑکی کو ہی سُناتا تھا
اس کے لئے وُہ شہر سے تازہ پھول اور لڑی لاتا تھا
وُہ لڑکی جن کی رسیا تھی
بیٹھ کے پاس وُہ لڑکی کے
اُس کی آنکھیں بند کر دیتا تھا
منہ اُسکا کُھلواتا تھا
اور میٹھے سے بھر دیتا تھا
اپنے ہاتھوں اُسے کھلاتا تھا
لڑکی بھی لڑکے پہ بہت سے پھول نچھاور کرتی تھی
اور مُبارک دیتی تھی
دن اُن کے لبریزَ محبت راتوں کے خواب بھی اپنے تھے
پت جھڑ کا کوئی نام نہ تھا اور سارے رنگ بہار کے تھے
خوشیوں کے گہوارے میں ہر دم ہلکورے لیتے تھے
گلہائے مسرت لے کے بہاریں چاروں جانب رقصاں تھیں
کیا یاد تجھے بھی آتے ہیں
اک لڑکی لمبی چٹی سی اک لڑکا سانولا سانولا سا
(جا ری)
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






