خامشی کی زباں
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIجان جاں کچھ کہو
خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
جانتا ہوں محبت میں اظہار کب کھوکھلے حرف و معنی کا محتاج ہے
مانتا ہوں محبت وہ احساس ہے
جس میں خاموشیاں بات کرنے لگیں
نت نئے خواب آنکھوں میں سجنے لگیں
روح سننے لگے دھڑکنوں کی زباں
پھر بھی اب جان جاں
خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
کچھ کہو
شرمگیں مسکراہٹ میں لپٹی ہوئی ہجر کی داستاں
وسوسوں میں گھرا، آنسوؤں سے لکھا دھڑکنوں کا بیاں
اپنے جذبوں کو لفظوں کی پوشاک دو
ٹوٹا پھوٹا سہی، الجھا الجھا سہی
کوئی اظہارہو
کیونکہ اب جان جاں
خامشی کی زباںسنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






