خدا کرے کہ نیا سال یہ مبارک ہو
Poet: dr.zahid Sheikh By: dr.zahid Sheikh, Lahore Pakistanخدا کرے کہ نیا سال یہ مبارک ہو
یہی دعا ہے مری مسکرائے شاد رہے
کبھی بھی رنج و الم کی گھٹائیں نہ برسیں
تجھے نشاط ملے ، گھر ترا آباد رہے
نہ سوچنا کہ میں کس حال میں ہوں ، کیسا ہوں
غموں کو سہتے جیا ہوں میں یوں ہی جی لوں گا
ترے لبوں پہ چٹکتی رہیں سدا کلیاں
تری جدائی میں سب اشک اپنے پی لوں گا
یہ سال نو ترے گلشن کو دے بہار نئی
ترا سہاگ سلامت رہے دعا ہے مری
تو میری ہو نہ سکی یہ تو میری قسمت ہے
میں پا کے بھی نہ تجھے پا سکا سزا ہے مری
بھلا سکوں گا نہ دل سے کبھی بھی تیرا خیال
تو مجھ کو یاد نئے سال میں بھی آئے گی
میں کوششیں تو کروں گا کہ خود کو بہلاؤں
مگر تو خوابوں میں آ کر مجھے رلائے گی
خدا کرے کہ نیا سال یہ مبارک ہو
یہی دعا ہے مری مسکرائے شاد رہے
کبھی بھی رنج و الم کی گھٹائیں نہ برسیں
تجھے نشاط ملے گھر ترا آباد رہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






