خزاں لائی رنج موسم غم بھی حد سے نکل چکے تھے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiخزاں لائی رنج موسم غم بھی حد سے نکل چکے تھے
سوچا جن کو شریک حیات وہ لوگ کب کے بدل چکے تھے
اس صحرائے شام میں دوُر دوُر تک ویرانی پائی
شاید کوئی آندھی چلی کہ سب نظارے ڈھل چکے تھے
توقف کے عالم نے ہماری سرپرستی اس طرح کی
کہ کچھ درد چھپائے رکھے اور کچھ درد رو چکے تھے
ہم نشینوں لیئے اتنا سوچا کہ اپنی دنیا بھی بھول گئے
پھر بھی ہمیں تنہائی ملی اور وہ جہاں سے مل چکے تھے
سنتوشؔ ہم فنا نہ تھے، ہجر نے کی تھی حرام زندگی
آج کوئی ملنے آیا تب ہم دنیا سے جا چکے تھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






