خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی

Poet: Sahir By: Adnan, karachi

خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی

دور تھے تو زند گی بے رنگ تھی بے کیف تھی
ان کے کو چے میں گئے تو زند گی اچھی لگی

ہم نہ جا ئیں گے کہیں بھی در نبی والہﷺ کا چھو ڑ کر
ہم کو کوئے مصطفی والہﷺ کی چا کری اچھی لگی

نا ز کر تو اے حلیمہ ؓ سرور ِکو نین پر
گر لگی اچھی تو تیری جھو نپڑی اچھی لگی

رکھ دیا سرکار کے قد موں پہ سلطانوں نے سر
سبز گنبد کی ہیں روشنی اچھی لگی

آج محفل میں نیا زی نعت جو میں نے پڑ ھی
عا شقا نے مصطفی والہﷺ کو وہ بڑ ی اچھی لگی

Rate it:
Views: 864
14 Oct, 2021