خموش نگری میں
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaجنم لِیا ہے جو اِنساں فروش نگری میں
سکُوت چھایا ہُؤا ہے خموش نگری میں
جو مُنہ کی کھا کے پلٹتا ہے اور بستی سے
نِکالتا ہے وہ سب اپنا جوش نگری میں
اگرچہ چہرے سے یہ سخت گِیر لگتے ہیں
سبھی ہیں دوست صِفَت برف پوش نگری میں
تُمہارے شہر کے شر شور کا اثر ہی نہِیں
کہ چھوڑ آیا ہُوں مَیں چشم و گوش نگری میں
پڑی ہے سب کو یہاں اپنا سر چُھپانے کی
کوئی تو مُجھ سا دِکھے سر فروش نگری میں
امیرِ شہر نے صرفِ نظر پِسر سے کیا
غریبِ شہر کا نِکلا ہے دوش نگری میں
اُگا رہے ہیں یہاں فصل ظُلمتوں کی جو
سُنائی دی ہے نوائے سروش نگری میں
بہار آئی ہے پِیلی خزاں رُتوں کے بعد
سو پایا جاتا ہے جوش و خروش نگری میں
رشِیدؔ نام کے، سُنتے ہیں کوئی شاعر ہیں
نہِیں ہے اُن سا کوئی شَبد کوش نگری میں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






