خواب سونے نہیں دیتے
Poet: Muhammad Amir Sultani By: Muhammad Amir , Kotliآنکھوں کے گِرے گواہ ہیں کہ یہ خواب سونے نہیں دیتے
منتظر ہیں اک جھلک کو کہ آنکھ اب بند کرنے نہیں دیتے
ارتحال کو جو رواں ہوں دل پاوُں سے لپٹ جاتا ہے
اب میرے حواس بھی تیرے شہر سے جانے نہیں دیتے
یوں تو پورا ہی شہر لیلیٰ مجنوں پے رشک کرتا ہے
مجھے اس کی گلی میں یہ لوگ کیوں جانے نہیں دیتے
سنا ہے چاند بھی اب اس کا پہرہ دیتا ہے رات بھر۔
تارے بھی اس کے صحن سے کسی کو گزرنے نہیں دیتے
سہل جائیں گے سبھی کڑے امتحان بھی بندشوں کے
قفسِ قید سے جو مجھے اس کی طرف جانے نہیں دیتے
لاحاصل ہی رہا عمر بھر ہمیں اک نظر کا دیدار
رخ یار سے اب میرے پاوُں بھی پلٹنے نہیں دیتے
ضم کر گئی مجھ میں اب تیرے شہر کی رعنائی
رات ہوتے ہی یہ جگنوں مجھے اب کہیں جانے نہیں دیتے
اس کے شہر کے لوگوں میں بھی اسی کے رنگ ہیں عامرٓ
اس کا ہو کہ بھی اس کے قصے اب سنانے نہیں دیتے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







