خواب گاہ
Poet: ارسلان حُسین By: Arsalan Hussain, Dubaiتم نے دیکھی ہے خواب گاہ میری
میں نے اِک شمع جلائے رکھی ہے
یوں تو تاریکی ہے اِرد گِرد بہت
مگر کھڑکی سے چاند کی چاندنی
در و دیوار پر رقص کرتی ہیں
اس دریچے کے دیمک زدہ دروازے پر
اِک مدت سے کوئ دستک نہیں ہوئ لیکن
سرد موسم کی تیز ہوائیں
اس سے الجھتی ہیں شور کرتی ہیں
مجھ کو دھڑکا سہ لگا رہتا ہے
وہ کہیں اندر نہ داخل ہو جائیں
اتنی خاموشی اتنے سناٹے ہیں
آنکھ لگ جائے اگر کچھ پل کو
تو گھڑیال کے گھومتے کانٹے
اس قدر شور برپا کرتے ہیں
میں چین سے سو نہیں پاتا
میری ٹیبل پر کچھ بکھرے کاغذ
خود کو پڑھنے پر مجھے اُکساتے ہیں
اُس پر درج کہانی ماضی کی
مجھے آج بھی ادھوری لگتی ہے
میں اس کی تکمیل کیلئے اکثر
اپنے خوابوں کو مار دیتا ہوں
اور پھر جاگتی ہوئ آنکھوں سے
یونہی ہر شب گزار دیتا ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






