خود سے ہی دور بھاگا جا رہا ہوں
Poet: Numan Ijaz By: Numan Ijaz, Lahoreخود سے ہی دور بھاگا جا رہا ہوں
منزل اب کوئی نہیں یوں ہی چلتا جا رہا ہوں
بدلتا جاتا ہوں اس دھواے کی طرح
ہواؤں میں کہیں گم ہوتا جا رہا ہوں
مجھے چاہت ہے اب تنہائیوں کی
محفلوں سے تیری اُٹھتا جا رہا ہوں
ٹوتا ہوں ہر رات تیری یادوں میں کھوکر
ہر صبح تیرے نزدیک آتا جا رہا ہوں
کہتے ہیں پاگل مجھے،مانگتا نہیں کچھ اپنے لیے
مسافر کیا چاہے؟ بس تجھے دُعائیں دیتا جا رہا ہوں
نہیں جانتا اُس سے بچھر کر کیا کرنا چاہیے لیکن
خوشیِ جانہ کو سوچ کر آنسو پیتا جا رہا ہوں
تُو آمل، سمبھال یا سدھار دے مجھے
تجھ سے بچھر کر میں بگڑتا جا رہا ہوں
نہ کوئی ادیب ہوں نہ شاعری سے واسطہ کوئی
یہ تو دردِ دل ہے نعمان جو میں لکھتا جا رہا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






