خود ہی سوال اور خود ہی جواب سا ہوں میں
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود, نونٹگھمخود ہی سوال اور خود ہی جواب سا ہوں میں
جو نہ سمجھی گئی کبھی اُس کتاب سا ہوں
دیکھ جو جاؤ قریب سے کہ نایاب سا ہوں میں
وقت کے سہرا میں اُبراسہراب سا ہوں میں
کچھ دم کا ہوں مہمان حُباب سا ہوں میں
ابھی تو ہوں پاس تیرے ابھی دستیاب سا ہوں میں
آنکھوں سے بہتے آشکوں کا سیلاب سا ہوں میں
جو مسسل برستا رہا وہ آب سا ہوں میں
تدبیروں کے بنسبت ناکامیاب سا ہوں میں
بگڑے ہوئے نصیبوں کا جیسے حساب سا ہوں میں
کہیں بے آب ہوں تو کہیں سیلاب سا ہوں میں
اسیر مجھےِ زیست کی روانی گرد آب سا ہوں میں
بار بار نہ کہہ مجھ سے کہ قریب سا ہوں میں
جو نہ آؤں گا پھر ہاتھ وہ ثواب سا ہوں میں
کسی کے دل میں سما جاتا اپنا بھی درد زرا
اپنے ہی حاِل دل کا خود نقیب سا ہوں میں
اپنی ہی خوشبو سے محروم گلاب سا ہوں میں
حقیت ہو کر بھی کیوں مسعود خواب سا ہوں میں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







