خوشبو کو قفس میں ڈالوں کیسے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadدل سے تیری یاد کو نکالوں کیسے
خوشبو کو قفس میں ڈالوں کیسے
اُسے ضد ہے سِرک جانے کی
ریت کو مٹھی میں دبا لوں کیسے
خونِ جگر سے سینچا ہے جوگلشن
اپنے ہی ہاتھوں سےجلا لوں کیسے
دھڑکنا بھول گیا تیرے جانے پر
دل تو دل ہے اِسے سنبھالوں کیسے
نگاہِ سوز میں ہے خزاں سی ویرانی
چہرے پہ تبسم کو سجا لو ں کیسے
تجھ سے تقدیر نے ملنے نہ دیا
تیری یاد سے دامن چُھڑا لوں کیسے
سوچتا ہوں دل کے نہاں گوشے میں
تجھے مورت کی طرح چھپا لوں کیسے
اب تو ہر شب ہی شبِ اداسی ہے
جہان ِ سوزمیں دل کولگا لوں کیسے
یہ اشک نہیں تیری یاد کا موتی ہے
پلکوں سے گرا کر مٹی میں مِلا لوں کیسے
ابھی خواب ادھورا ہےکہ خود کو
نیند کی آغوش سے جگا لوں کیسے
ہو ناز تجھے دلِ ناداں کے جنوں پر
تیرے دل میں رضا وہ جگہ لوں کیسے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






