خوش ہو تو لوں، پر اِس دلِ ویراں کا کیا کروں
Poet: کاشف علی ہاشمی By: Kashif Ali Hashmi, Karachiخوش ہو تو لوں، پر اِس دلِ ویراں کا کیا کروں
مجھ میں سسکتے مجھ سے پریشاں کا کیا کروں
لوٹ آنا ٹھیک ، تیری پشیمانیاں بھی ٹھیک
لیکن بتا کہ جاتی ہوئی جاں کا کیا کروں
غم کا، خوشی کا دل ہی جب ادراک کھو چکا
گلشن کا کیا کروں گا، بیاباں کا کیا کروں
ارماں نہیں ہے کوئی بھی، سب کرچکا ہوں دفن
اس دشتِ جاں میں شہرِ خموشاں کا کیا کروں
کیا راکھ کرکے خود کو فضا میں بکھیر دوں
اِس عشق کا، اِس آتشِ پنہاں کا کیا کروں
ٹھکرا دیا گیا ہوں کوئی مانتا نہیں
بکھرے یہ بال، چاک گریباں کا کیا کروں
کھا تو گئی ہیں شہرِ نگاراں کو ظلمتیں
کاشفؔ تری یہ چشمِ فروزاں کا کیا کروں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







