خیالوں ہی خیالوں میں
Poet: پلک محروم By: Md.Imran nazir, gopalganjخیالوں ہی خیالوں میں تیرا آنا،تیرا جانا
امیدیں پاکے ساحل کی خود ہنسنا، ہنسانا
مجھے وہ دیکھنا محبت بھری ترچھی نگاہوں سے
مجھے وہ چاہنا حسرت بھری دل کی پناہوں سے
قفس کو چھوڑ کر دنیا کے رسموں کو، رواجوں کو
کہیں سے ڈھونڈھ کے چھوٹی سی دل کی پناہوں کو
زرا روکے، زرا ہنس کے، دل کو بہلا جانا
ہر اک حالِ دل خود کا خود سے بتا جانا
پناہیں پا کے باہوں کی پھر دل میں سماجانا
لگا ہے آج پھر ایسا کہ تو گیسو لہرائی ہے
بہاریں جھوم کر پھر سے میرے دامن میں آئی ہیں
تیری نرم و نازک زلفوں سے، محبت کے خزانے سے
بھنی بِھنی مہکی، خوشبو سی آئی ہے
نہیں ہے تو میرے سنگ، تیری ادائگیاں سنگ ہیں
تیری چاہت کی ہر اک موڑ بھی دعائیہ سنگ ہے
خیالوں میں آج بھی باقی تیری پرچھائیاں سنگ ہے
نہیں ہوں تنہا میں، تو سنگ ہے، ہرپل خیالوں میں
نہ جانے پھر بھی کیوں لگتا ہے کہ تنہائیاں سنگ ہے
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






