داغ
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiانسان کہاں بھول پاتے ہیں
پھندوں میں جھول جاتے ہیں
اپنی زات پر تو کبھی
اپنے فیصلوں پر پچھتاتے ہیں
دیتے ہیں سزا خود کو
دوسروں کے گناہوں کی
دُہائی دیتے رہتے ہیں
اک پل پکڑی باہوں کی
اک داغ ہے تمہاری ذات کا
میری چادر ِ زندگانی پر
تم ہی ہو درد ایک
میری خوبصورت کہانی پر
بہت بھدے بہت بد نما بھی ہو
میرے حالات سے آگاہ بھی ہو
میں اپنے وجود کو سمیٹ کر
میں اپنی زات کو لپیٹ کر
خواہ کیسا ہی کر لوں
تم کہیں نہیں جاتے ہو
مجھے ہر دم نظر آتے ہو
جیسے کوئی گناہ ہو
جیسے پیار بے پناہ ہو
جو روح کو ازیت دیتا ہے
جسے انسان اہمیت دیتا ہے
ایک داغ جو ختم سنگ زندگانی ممکن ہے
ایک داغ جو فقط سنگ میری کہانی ممکن ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






