درد کتنا ہے جابجا مجھ میں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالدرد کتنا ہے جابجا مجھ میں
جانے کیا حادثہ ہوا مجھ میں
کون سے آہینے میں ڈھونڈوں اب
تیرا چہرا نہیں رہا مجھ میں
تھا کوئی شخص اِک مرے اندر
مجھ سے کیوں، کس لیے لڑا مجھ میں
عمر بھر کا سفر رہا درپیش
آخرش میں پہنچ گیا مجھ میں
اس قدر حبس بڑھ گیا اندر
اب مرا دم ہے گھٹ رہا مجھ میں
کیسا چلنا کہاں کا چلنا اب
راستہ ختم ہو چکا مجھ میں
ایک روگی نڈھال ہے کب سے
ایڑھیاں ہے رگڑ رہا مجھ میں
کس طرح سامنا کروں اپنا
اتنا دم اب نہیں بچا مجھ میں
پوچھ مت بعدِ ہجر کے حالات
کے برس میں ہی نہ اٹھا مجھ میں
ہر گھڑی خود میں کھویا رہتا ہوں
ایسا کیا ہے بھرا پڑا مجھ میں
عالمِ جانکنی رہا جس پر
رات وہ شخص مر گیا مجھ میں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






