دسمبر جا رہا ہے آؤ سوچیں۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreدسمبر جا رہا ہے آؤ سوچیں
کہ ہم نے کیا کِیا، کیا کر نہ پائے
کہ ہم نے کتنی آنکھوں کو رَلایا
کسی کے دِل کو ہم نے کب دَکھایا
آنکھوں کو رَلایا دِل دَکھایا
اگر ایسا ہے تو دِل کیوں دَکھایا
کسی کو ہم نے آخر کیوں رَلایا
کبھی ناسمجھی میں یا جانے بوجھے
اپنے پیاروں کو ناحق کیوں ستایا
اگر ایسا ہے تو پھر آؤ سوچیں
دسمبر جا رہا ہے آؤ سوچیں
چلو روٹھے ہوؤں کو پھر منالیں
سبھی شکوے گِلے مِل کر مٹالیں
کوئی ہم سے نہ روٹھے
روئے نہ اپنی وجہ سے
گلے مِل کے چلو پھر مَسکرا لیں
اَداسی کو ہر اِک رَخ سے ہٹائیں
چلو آؤ کہ مَسکانیں سجائیں
رکھیں خوش سب کو
اور سب کو ہنسائیں
مسرت مَسکراہٹ دوستی کے
تر و تازہ چمن میں گَل کِھلائیں
عداوت اور کدَورت بَھول جائیں
نفرتیں ختم کردیں
اور محبت عام کردیں
زندگی
دوستی کے نام کردیں آؤ سوچیں
دسمبر جا رہا ہے آؤ سوچیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






