دسمبر کے گزرتے ہی
Poet: محمد مسعود نونٹگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottinghamدسمبر کے گزرتے ہی
برس ایک اور ماضی کی جفاؤں میں ڈوب جائے گا
اُسے کہنا
دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے آ جائے
محبت کی داستان کو کوئی تکمیل دے جانا
اُسے کہنا
اُسے کہنا دسمبر کا مہنہ جیسے گزرے گا
اُمیدیں ڈُوب جائیں گی وہ سپنے بھی ٹوٹ جائیں گے
اُسے کہنا
دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے آ جائے
اپنی اور میری محبت کو کوئی تعبیر تو دے جائے
اُسے کہنا
مقدر کو ہمارے ڈُوب جانے سے بچا لے
اُسے کہنا
دسمبر آیا اور جا بھی رہا ہے
اور اب ایک اور سال بیت جائے گا
اُسے کہنا
برس ایک اور ماضی کی جفاؤں میں ڈوب جائے گا
دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے آ جائے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






