دس منتخب اشعار
Poet: By: Najeeb Ur Rehman, Lahore‘ٹُوٹا طلسمِ عہدِ محبت کچھ اس طرح سے
پھر آرزو کی شمع فروزاں نہ کر سکے‘
‘اِس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہیے
پھر اس کی خاک کو بھی اُڑا دینا چاہیے‘
‘جس کے بازو کو تحفظ کی علامت جانا
کر گیا ہے وہی دنیا کے حوالے مُجھے‘
‘اب دعاؤں کے لیے اُٹھتے نہیں ہیں ہاتھ بھی
بے یقینی کا تو عالم تھا مگر ایسا نہ تھا‘
‘کوئی غم دَربَدر نہیں ہو گا
جب تلک میرا دِل سلامت ہے‘
‘حادثے آئیں گے جیون میں تو تُم ہو کے نڈھال
کسی دیوار کو تھامو گے تو یاد آؤں گا‘
‘جس طرح سے خواب میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اِس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی‘
‘تُجھ سے بِچھڑ کر کیا ہوں مَیں، اب باہر آ کر دیکھ
ہمت ہے تو میری حالت آنکھ مَلا کر دیکھ‘
‘عُمر بھر جلنے کا اَتنا تو صَلہ پائیں گے ہم
بُجھتے بُجھتے چند شمعیں تو جَلا جائیں گے ہم‘
‘پھر کبھی لَوٹ کر نہ آئیں گے
ہم تیرا شہر چھوڑ جائیں گے‘
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







