دل لگانا بڑا خسارہ ھے
Poet: کامران نور صدّیقی By: Kamran Noor Siddiqui, Karachiدل لگا نا بڑ ا خسا ر ہ ھے
تجھ پہ ہی دل یہ میں نے ہارا ھے
ہر کو ئی خواہشوں پہ مرتا ھے
ہم نے تو خواہشوں کو مارا ھے
آ ہ ! وہ بھی نہ بن سکا میرا
جس پہ سب کچھ ہی میں نے وارا ہے
بھول جاؤں ، یہ کیسے ممکن ھے
وقت جو سنگ تیرے گزارا ھے
تیری ہی سوچ اور تیری یادیں
ان سے ہی زیست کو سنوارا ہے
ا پنی تنہا ئیو ں سے گھبر ا کر
دل نے تجھ کو ہی بس پکارا ھے
!تو حقیقت ھے ؟ یا حقیقت میں
ا ک تخیل ھے ، ا ستعا رہ ھے
یہ نہ پوچھو قصور کس کا ھے
نہ تو میر ا ھے نہ تمھار ا ھے
سب کو ملتا ھے وہ ہی با لآ خر
جو بھی جس کے لئے ا تارا ھے
گر تے آنسو ہی پونچھ دے کوئی
یہ بھی ہم کو کہاں گوارا ھے
خود ہی گرنا ھے خود سنبھلنا ھے
کو ن د یتا کسے سہا را ھے
دور جانا ہے کوئی ساتھ نہیں
اور رستہ کٹھن یہ سارا ہے
وقت یکساں سدا نہیں رہتا
زندگی کا بد لتا د ھا را ھے
کون جانے کہ وہ پلٹ جا ئے
میری قسمت کا جو ستارہ ہے
ڈ وب جاؤں میں چاہے رستے میں
میری منزل تو بس کنارہ ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






