دل مرا اس بت پہ فدا ہو گیا
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi دل مرا اس بت پہ فدا ہو گیا
کوئی تو بتلائے یہ کیا ہو گیا
سانس کا لینا بھی سزا ہو گیا
ہائے، یہ کیا میرے خدا ! ہو گیا
جام اسے پھر نہ عطا ہو سکا
پیر مغاں جس سے خفا ہو گیا
اک نئی مشکل میں یہ جاں پھنس گئی
ماجرا در پیش نیا ہو گیا
ایسے ہے ٹوٹے ہوئے دل کی صدا
جیسے کوئی نغمہ سرا ہو گیا
گردش ایام ! ترے فیض سے
دوست تھا، دشمن جو مرا ہو گیا
ہم رسن و دار تک آ ہی گئے
غمزہ ترا قہر و بلا ہو گیا
ختم نہ ہو پائے گی لو اس کی اب
اشکوں کا روشن جو دیا ہو گیا
دیکھئے اس بت کی ستم پروری
نام وفا سن کے خفا ہو گیا
وہ جو سر بزم ہوئے مضمحل
سمجھو مرا نالہ رسا ہو گیا
جاتی رہی رسم سلام و دعا
ایسا بھی کیا کار خطا ہو گیا
ہم سے فقیران وفا خو کو ، تو
طعنہ بھی حرف دعا ہو گیا
کہتے ہیں رومی ! اسے معراج شوق
موجہ خوں ، رنگ حنا ہو گیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






