دل کے ویران صحرا میں انگارے ٹوٹ جاتے ہیں
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratآنکھوں میں مقیم اکثر خواب ہمارے ٹوٹ جاتے ہیں
نصیب جب بھی پرکھتے ہیں تو تارے ٹوٹ جاتے ہیں
سرد راتوں کو اٹھ اٹھ کر تمھیں جب بھی پکارا ہے
دل کے ویران صحرا میں انگارے ٹوٹ جاتے ہیں
یادیں بے رحم ہو جائیں تو چھلک جاتی ہیں آنکھیں
ندی جب چڑھ جاتی ہے کنارے ٹوٹ جاتے ہیں
اپنی تقدیر میں لکھا نہ چاند ہے نہ سورج ہے
ستاروں کا ذکر کیسا ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
محل ہم غریبوں کے کبھی ہوتے نہیں پورے
گھروندے جو بناتے ہیں وہ سارے ٹوٹ جاتے ہیں
مظہر تم محبت کو بڑا مضبوط سمجھتے ہو
ذرا سی ٹھیس سے یہ بندھن پیارے ٹوٹ جاتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






