دو لاین والی شاعری
Poet: M.masood By: M.Masood, Nottingham(94)
میری دھڑکنوں کے قریب تھے میری چاہ تھے میرا خواب تھے
جو روز و شب میرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
(95)
جیسے ترستا ہے صحرا شبنم کے چھونے کو
کبھی ویسے رب سے تم بھی مجھے مانگ لو
(96)
سنبھل کر تم ذرا چلنا محبت کے ان رستوں پر
یہاں پہ درد کے رستے بہت ہموار رکھے ہیں
(97)
لفظوں سے ہوتا نہیں اظہار ہم سے پیار کا
بس میری آنکھوں میں دیکھ کر خود کو پہچان لو
(98)
وہ ابھی اِس طرف سے گزرا ہے
یہ زمیں آسماں سی لگتی ہے
(99)
ہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جُدا کس سے کریں
(100)
جو ہونا ہے وہ ہو کر ہی رھے گا
تم آخر اس قدر کیوں سوچتے ہو
(101)
ہمیں عزیز ہو کیونکر نہ شامِ غم کہ یہی
بچھڑنے والے، تیری آخری نشانی ہے
(102)
پہلے اُترا میں دل کے دریا میں
پھر سمندر اُتر گئے مجھ میں
(103)
لوگوں نے میری شکل کے ٹکڑے اٹھا لیئے
تصویر میرے چاہنے والوں میں بٹ گئی
(104)
اُس کی آنکھیں تو سمندر سے بھی گہری تھیں
مسعود تیرنا تو آتا تھا مگر ڈوبنا اچھا لگا
(105)
باتوں باتوں میں میرا ذکر بھی لے آئیں گے
اُن کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






