دُھواں دُھواں سبھی منظر دِکھایٔ دیتے ہیں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدُھواں دُھواں سبھی منظر دِکھایٔ دیتے ہیں
مجھے سلگتے ہوۓ گھر دِکھایٔ دیتے ہیں
مدافعت کا طریقہ بھی خوب تر ہے یہ
ہر ایک ہاتھ میں پتھر دِکھایٔ دیتے ہیں
قریب ہیں جو رگِ جاں سے بھی مری بڑھ کر
سدا وہی تو سِتم گر دِکھایٔ دیتے ہیں
نظر اٹھاتی ہوں جب اپنے خیمۂ جاں پر
قدم قدم بڑے محشر دِکھایٔ دیتے ہیں
قریب جاؤں تو صحرا کی مِثل ہیں وہ بھی
تِری نظر میں جو ساگر دِکھایٔ دیتے ہیں
یہ بے زمینی کے سارے اندھیرے مجھ تک ہیں
جو دُور سے مہ و اختر دِکھایٔ دیتے ہیں
کبھی تو تھے وہی تسکینِ جاں کا پہلو بھی
جو بزمِ غیر میں اکثر دِکھایٔ دیتے ہیں
مجھیُ پہ عذراؔ مسلط ہے پیاس کا صحرا
قدم قدم پہ سمندر دِکھاِیٔ دیتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






