دکھ بات بے بات دے کبھی سوچا نہ تھا
Poet: rizwana By: rizwana, torontoمقدر مات دے گا کبھی سوچا نہ تھا
دلبر ساتھ نہ دے گا کبھی سوچا نہ تھا
گرے کبھی تو سنبھالے گووہی
وہ ہی ہاتھ نہ دے گا کبھی سوچا نہ تھا
سنے گیت وفا کےاور پیار کے نغمے
بھری نفرتوں سے سماعت دے گاکبھی سوچا نہ تھا
تھی تمنا پا لیں گے چاند تاروں کو
یوں اندھیری رات دے گا کبھی سوچا نہ تھا
جستہ جستہ چل رہے تھے ہم قدم تیرے
دکھ بات بے بات دے کبھی سوچا نہ تھا
تانا بانا زندگی بن رہے تھے اپنے تئ
ریشم و اطلس سوغات دے گا کبھی سوچا نہ تھا
شیریں بیانی وہ تیری بھ نہیں سکتے
بے طرح حجت معاملات دے گاکبھی سوچا نہ تھا
زندگی تو پہلے ہی جہد مسلسل تھی یارا
تو بھی فکری میلانات دے گا کبھی سوچا نہ تھااچچچ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






